یہ ایک مختصر مگر معنی خیز کہانی ہے ایک غریب کسان کی، تقریباً 500–600 الفاظ میں: ایک گاؤں کے کنارے ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام رحمت علی تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی جس پر وہ محنت کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ زندگی آسان نہیں تھی، مگر رحمت علی ہمیشہ اللہ پر بھروسا رکھتا اور محنت کو ہی اپنی کامیابی کی کنجی سمجھتا تھا۔ رحمت علی روز صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھ جاتا، وضو کرتا، نماز پڑھتا اور پھر اپنے کھیتوں کی طرف نکل جاتا۔ اس کی بیوی بھی اس کا بھرپور ساتھ دیتی۔ دونوں میاں بیوی سادہ زندگی گزارتے مگر دل کے بہت امیر تھے۔ ایک سال گاؤں میں سخت قحط پڑ گیا۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں سوکھ گئیں۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا۔ رحمت علی کے کھیت بھی بنجر ہونے لگے۔ اس کے بچوں کو کئی کئی دن بھوکا سونا پڑتا۔ حالات بہت مشکل ہو گئے۔ ایک دن رحمت علی اپنے کھیت میں بیٹھا مایوسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس کے دل میں امید ابھی زندہ تھی۔ اس نے دعا کی: "یا اللہ! میں نے ہمیشہ محنت کی ہے، تو ہی میرا مددگار ہے۔" اسی دوران ایک بوڑھا مسافر وہاں سے گزرا۔ وہ بہت تھکا ہوا اور بھوکا لگ رہا تھا۔ اس نے رحمت علی سے پانی مانگا۔ رحمت علی کے پاس خود کھانے کو کچھ نہ تھا، مگر اس نے اپنے گھر جا کر بچوں کے لیے بچا ہوا آخری کھانا اس مسافر کو دے دیا۔ مسافر نے کھانا کھایا اور دعا دی: "اللہ تمہیں اس کا بہترین بدلہ دے گا۔" اگلے دن اچانک آسمان پر بادل چھا گئے۔ تیز بارش شروع ہو گئی۔ پورا گاؤں خوشی سے جھوم اٹھا۔ رحمت علی کے کھیت بھی دوبارہ زندہ ہو گئے۔ چند ہفتوں میں اس کی فصل لہلہانے لگی۔ فصل اتنی اچھی ہوئی کہ رحمت علی نے نہ صرف اپنے گھر کی ضروریات پوری کیں ب