🕋 حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی خانہ کعبہ کی تعمیر کی کہانی بہت پرانی بات ہے، جب زمین پر توحید کا پیغام عام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چن لیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہر طرف سے آزمائشوں کا سامنا تھا، لیکن ان کا دل صرف اللہ کی محبت سے بھرا ہوا تھا۔ ایک دن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور اپنے ننھے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک ویران اور خشک وادی میں چھوڑ آئیں، جہاں نہ پانی تھا، نہ درخت، نہ کوئی انسان۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور دونوں ماں بیٹے کو اس وادی میں چھوڑ دیا۔ حضرت ہاجرہ بہت پریشان ہوئیں، لیکن ایمان ان کے دل میں بھی مضبوط تھا۔ کچھ وقت بعد اللہ کے حکم سے زمزم کا پانی وہاں جاری ہو گیا، اور وہ جگہ آباد ہونے لگی۔ سال گزر گئے، حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو گئے۔ اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور عظیم حکم دیا۔ انہیں خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اللہ کے گھر یعنی “بیت اللہ” کو دوبارہ تعمیر کریں۔ یہ وہی مقدس جگہ تھی جو پہلے سے موجود تھی لیکن وقت کے ساتھ اس کی نشانی مٹ گئی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً مکہ پہنچے۔ وہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے والد کا انتظار کر رہے تھے۔ جب باپ بیٹے ملے تو یہ ایک بہت جذباتی لمحہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "اے میرے بیٹے! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس گھر کی تعمیر کروں، کیا تم میری مدد کرو گے؟" حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فوراً جواب دیا: "اے میرے والد! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔" پھر دونوں نے مل کر